اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں آزاد ریاست کے مطالبے پر مبنی قرارداد کی عدم منظوری کے ایک دن بعد بدھ کے روز عباس نے اس دستاویز پر دستخط کیے۔
اس کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے مختلف بین الاقوامی تنظیموں میں رکنیت کے لیے بیس اور توثیقی دستاویزات پر دستخط کیے۔
فلسطینی حکام کے مطابق یہ درخواستیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور متعلقہ تنظیموں اور اداروں کے عہدیداران کو پیش کی جائیں گی۔
فلسطینی حکام کو امید ہے کہ بین الاقوامی عدالت برائے جرائم کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسرائیلی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکیں گے۔
محمود عباس پہلے ہی خبردار کرچکے تھے کہ اگر مستقل فلسطینی ریاست اور مقبوضہ علاقوں پر صیہونی حکومت کے قبضے کے خاتمے پر مبنی قرارداد سلامتی کونسل نے منظور نہ کی تو وہ بین الاقوامی عدالت کی رکنیت کے لیے درخواست دیدیں گے۔
بدھ کو بین الاقوامی اداروں کی رکنیت کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی منظوری دینے کے بعد راملہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عباس نے اپنے فیصلے کا دفاع کیا اور صیہونی حکومت اور اس کے حامی مغربی ملکوں پر کڑی تنقید کی۔
قلسطینی اٹھارٹی کے سربراہ نے کہا کہ فلسطینیوں پر حملہ کرکے ان سے روزانہ کی بنیاد پر ان کی زمینیں چھینی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا جائے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کی شکایت کہاں درج کرائیں؟



















.......
/169